Home / Article / حلب نشانے پر کیوں ؟؟؟ : مسعود ابدالی 

حلب نشانے پر کیوں ؟؟؟ : مسعود ابدالی 

#حلب میں جو کچھ آج ہورہا کچھ ایسی ہی انسانیت سوز کاروائی 36 برس پہلے #شام کے ایک اور بڑے شہر #حماہ میں بھی کی گئی تھی۔ اس وقت #بشار_الاسد کے والد #حافظ_الاسدکی حکومت تھی جنھوں نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنے بھائی #رفعت_الاسد کو خفیہ پولیس کا سربراہ مقرر کیا۔ دونوں بھائیوں کا خیال تھا کہ شام کی ترقی کیلئےمذہبی عناصر کی مکمل بیخ کنی ضروری ہے۔ دوسرے عرب ممالک کی طرح شام میں بھی اخوان المسلمون نوجوانوں میں خاصی مقبول تھی۔ دارالحکومت #دمشق کے شمال میں واقع حماہ، حلب اور #حمص کے شہر اخوان کےگڑھ سمجھے جاتے تھے۔ اخوان المسلمون کامرکزی دفتر حماہ میں تھا۔دریائے العاصي کے کنارے آٹھ لاکھ آبادی والا یہ زرخیز شہر شام کے علاوہ اردن اور لبنان کو بھی غلہ فراہم کرتاہے۔ زراعت کے ساتھ حماہ کپڑے کی صنعت کیلئے بھی مشہور ہے۔ مصر کی خام کپاس کو حماہ کے ماہرین قیمتی کپڑوں اور دیدہ زیب ملبوست میں تبدیل کردیتے ہیں۔اس شہر میں تعلیم کا تناسب سو فیصد کے قریب ہے اور علم کے میدان میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ہیں۔

سارے شام کی چالیس فیصد سے زیادہ لیڈی ڈاکٹرز کا تعلق حماہ اورحلب سے ہے۔ حماہ شہر میں اخوانیوں نے جگہ جگہ دارالمطالعے اور مدارس کی ساتھ خیراتی شفاخانے، رعائتی ریستوران اور غذائی اجناس کے ڈپو قائم کر رکھے تھے جہاں کھانے پینے کی اشیاء ارزاں قیمتوں پر فراہم کی جاتی تھیں۔ حماہ کے باشندوں کے علاوہ قریبی شہروں کے لوگ بھی ان سہولتوں سے مستفید ہوتے تھے۔

رفعت الاسد کو شام کے ان تین بڑے شہروں میں اخوان کے بڑھتے ہّے اثرات پر شدید تشویش تھی اور وہ حافظ الاسد کے مشورے سے ٹارگٹ کلنگ اور گرفتاریوں کے ذریعے محدود کاروائیاں کرتے رہتے تھے لیکن موثر رفاحی سرگرمیوں کے باعث اخوان کی مقبولیت بڑھتی جارہی تھی اورآہستہ اہستہ دمشق میں بھی اسکے اثرات محسوس ہونے لگے۔ اسی دوران جون1980میں صدر حافظ الاسد پر دمشق میں ایک قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ بال بال بچے۔ رفعت الاسد نے اسکا الزام اخوان پر لگایا اور خواتین سمیت پانچ ہزار سے زیادہ اخوانی کارکن گرفتار کرلئےگئے ان لوگوں کو برہنہ کرکے کھلے ٹرکوں میں سوار کیا گیا اور دن کی روشنی میں انھیں بڑے بڑے شہروں سے گھما نے کے بعد تدمر Palmyra))جیل میں بند کردیا گیا۔ سارے مردوں کو بد ترین تشدد کے بعد پھانسی دیدی گئی جبکہ خواتین کی بیحرمتی کرنے کے بعد انکی انکھیں پھوڑ کر گھروں کو واپس بھیج دیا گیا۔

رفعت الاسد نے ایک امریکی صحافی سے بات کرتے ہوئے فخریہ کہا کہ وہ تدمر کے قصاب ہیں اور انھوں نے اپنے ہاتھوں سے ایک ہزار اخوانیوں کے گلے میں پھانسی کے پھندے ڈالے ہیں۔ اس قید و بند پر اخوانیوں نے احتجاج کیا اور شام کے تمام شہروں میں بڑے بڑے مظاہرے کئے گئے جبکہ یورپ اور امریکہ کے مسلمانوں نے بھی اس پر احتجاج کیا۔ ان مظاہروں میں شدت آتی گئی۔ دو فروری 1982کو رفعت الاسد کی قیادت میں تیس ہزار شامی و روسی افواج نے حماہ کا محاصرہ کرلیا۔

شہر کی بجلی کاٹ دی گئی جبکہ شہر کو پانی کی سپلائی روک دی گئی۔ روسی فضائیہ کی بمباری سے سارا شہر خاک کا ڈھیر بنادیا گیا اس دوران شہریوں کے خلاف زھریلی گیس بھی استعمال کی گئی۔ تین ہفتوں کی مسلسل بمباری کے بعد ٹینکوں اور بھاری توپ خانے کی مدد سے شامی فوج شہر میں داخل ہوئی اور حماہ کی ایک ایک عمارت کو مکینوں سمیت منہدم کردیا گیا۔ تین مہینے سے زیادہ جاری رہنے والے اس آپریشن میں سرکاری اعدادو شمار کے مطابق پچاس ہزار افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ جان بحق ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔اس آپریشن سے سارا شام دہشت زدہ ہوگیا اور اسکے بعد حافظالاسد کو عوام کی جانب سے کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

حماہ میں وحشت کا ارتکاب بھی روس کی مدد سے کیا گیا لیکن اسوقت امام خمینی حیات تھے۔ امام صاحب نے اس خونریزی کی مذمت کرتے ہوئے حافظ الاسد کو شیطانِ بزرگ قراردیا جسکی وجہ سے اس تنازعے میں ایرانی حکومت اور حزب اللہ کی ہمدردیاں شامی مسلمانوں کے ساتھ تھیں۔

Check Also

صدقہ اللہ کی رضا یا تمہاری واہ واہ …!!!

سچا دوست…

Siblings Reveal Trick Of Their Record-Breaking Longevity

قرآن وحدیث کی روشنی میں قربانی کے احکام ومسائل

عشرہ ذو الحجہ کی بڑی فضیلت ہے،اس میں بڑے بڑے اعمال انجام دئے جاتے ہیں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Please type the characters of this captcha image in the input box

Please type the characters of this captcha image in the input box